تازہ غزل
اس پہ تھا اعتبار 'ختم ہوا
گویا کہ انحصار ختم ہوا
وہ جو اک ریشمی محبت تھی
اس کا سارا خمار ختم ہوا
وقت کی نبض رک گئ شاید
درد لیل و نہار ختم ہوا
اب تمنا نہیں رہی تیری
اب ترا انتظار ختم ہوا
جو گماں تھا یقین میں بدلا
راستے کا غبار ختم ہوا
اس کا جادو اتر گیا سر سے
اس کا کھینچا حصار ختم ہوا
سیماغزل

No comments:
Post a Comment