لمس کی آنچ پہ جذبوں نے اُبالی چائے - Hamaridunya

Breaking

Post Top Ad

لمس کی آنچ پہ جذبوں نے اُبالی چائے

لمس کی آنچ پہ جذبوں نے اُبالی چائے
عشق پیتا ہے کڑک چاہتوں والی چائے

کیتلی ہجر کی تھی، غم کی بنائی چائے
وصل کی پی نہ سکے ایک پیالی چائے
ہم نے مشروب سبھی مضر صحت ترک کئے
ایک چھوڑی نہ گئی ہم سے یہ سالی چائے
میرے دالان کا منظر کبھی آ کر دیکھو
درد میں ڈوبی ہوئی شام، سوالی چائے
میں یہی سوچ رہا تھا کہ اجازت چاہوں
اس نے پھر اپنے ملازم سے منگا لی چائے
اس سے ملتا ہے محبت کے ملنگوں کو سکوں
دل کے دربار پر چلتی ہے دھمالی چائے
رنجشیں بھول کے بیٹھیں کہیں مل کر دونوں
اپنے ہاتھوں سے پِلا خیرسگالی چائے
عشق بھی رنگ بدل لیتا ہے جانِ احمد
ٹھنڈی ہوجائے تو پڑ جاتی ہے کالی چائے

No comments:

Amazon